59 Hazrat Syed MAnzoor Hussain RT explaining the importance of sitting in the company of a ‘Kamil Wali’ (Perfect Saint)

اردو ترجمہ نیچے ھے

Once Hazrat Sheikh Syed Manzoor Hussain (RT) told his disciples that : To sit in the company of a kamil Wali( perfect saint) may save the worship of thousands of years from being wasted or ruined , because any such advice or words from that Wali may reach a person that can save him from a mistake which could ruin or waste one’s years of worship :Then in one of his audios Hazrat Syed Manzoor Hussain (RT) is telling his disciples that Molana Rumi RT has said that even the little company of a Kamil Wali Is better than worshipping for hundreds of years with sincerity .What is the secret in this? Hazrat Syed Manzoor Hussain R.T then explained that in his opinion there are two things. One thing is that on every Wali or man of any position or status in the eyes of Allah (سبحانه وتعالى)the light or Tajjalli of Allah Ta’ala is coming on that person according to his status. This Tajalli or light of Allah Ta’ala is reaching him accordingly. This tajalli (light) of Allah Ta’ala is of different kinds. One is Tajjalli Afali(actions), the other is Tajjalli Sifati (attributes) and then is Tajjalli Zati(personal). So any man of whatever position he is , according to his position that Tajjalli or light of Allah (سبحانه وتعالى) is coming on him. So any body who is sitting in the company of such a man, whether that Wali is making Tawwajju(concentration) on him or not, but this light is also reaching him without any doubt, and this thing cannot be achieved by worship only, because you know that those people who are seeing the Prophet ﷺ from him (Prophet ﷺ), that Tajjalli or light which is coming on the Prophet ﷺ, they also get it. Ulema Rabbani (blessed scholars) and Aulia Akram ( reverent saints)get this Tajjalli ( light) of Allah سبحانه وتعالىfrom Prophet ﷺ according to their status and positions,& also from the barakats descending on the Prophet ﷺ, they also get the barakats & benefits, and from these barakats the other person siting in the company of such a Wali is also getting these barakats which are descending upon them. The Prophet ﷺ himself has said that the Aulia e Rabbani of my Ummat are like the Anbia of Bani Israel, then there must be something in it. Second thing is that one may hear some words or advice (or may such words or advice reach the person) from them that they may benefit him thousands of times, for hundred of years more than any worship. Why? He further said that because he too so many times before has explained that by worshipping, a man is raised to a certain position by and by, slowly and slowly, till he reaches certain position that is by his (own) efforts. But God forbids he does not know that falling(from that position) is all at once, falling is all at once. How can we understand that by worshipping alone, if it could have been understood by worshipping alone devil would have understood it, because he was worshipping Allah Ta’ala at every stage, but if there would have been somebody ( in the time of trial from Allah Taala to advise him (that reliance on ones own worship is not enough), he would not have made this mistake, and would not have fallen with one thing, with one mistake he lost everything. ( That is why it is so important to pay attention to the advice or words that reach you from a kamil Sheikh, as these words may hold important advice for the recipient)

To listen to the Audio click on the following link:

45 The Secrets of the Company Sohbat e Awlia-Tajaliat of Allah SWT-Hadith on Awlia-a Talk by Hazrat Manzoor Hussain Sindhi Madani RT – Hazrat Manzoor Hussain RT.

ایک دفعہ حضرت شیخ سید منظور حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے مریدین سے فرمایا کہ ایک کامل ولی کی صحبت میں بیٹھنا ہزاروں سال کی عبادت کو ضائع ھونے سےبچا سکتا ھے ،کیونکہ ہوسکتا ھے اس ولی کے کوئی ایسے الفاظ یا نصیحت اس شخص تک پہنچ جائے جو اس کو کسی ایسی غلطی سے بچا لے جو کہ برسوں کی عبادت کو ضائع کر سکتی ھے، اسی سلسلے میں حضرت شیخ سید منظور حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے ایک آڈیو میں فرمایا کہ مولانا روم رح کا یہ فرمان ھے کے کسی بھی کامل ولی کی صحبت میں تھوڑی دیر بھی بیٹھنا سیکڑوں سال کی پرخلوص عبادت عبادت سے بہتر ھے، حضرت شیخ سید منظور حسین (رض) نے مزید اس فرمان کو سمجھایا کہ ان کے خیال میں اس کی دو وجوہات ہیں، پہلی تو یہ کہ کوئی بھی شخص یا بزرگ جس کی اللہ سبحانہ و تعالی کی نظروں میں کوئی مقام یا حیثیت ھےتو اللہ تعالی کی تجلی یا نور اس شخص پر اس کے مقام اور مرتبہ کے مطابق نازل ھوتا ھے،یہ تجلی اور نور ہر ایک کو اس کے مقام کے مطابق پہنچتا ھے، اللہ تعالی کی تجلی مختلف اقسام کی ہوتی ھیں، ایک تجلی افعالی کہلاتی ھے، دوسری تجلی صفاتی کہلاتی ھے اور تیسری تجلی ذاتی کہلاتی ھے، ھر شخص کو اپنے مقام کے مطابق اللہ سبحان و تعالی کی تجلی اور نور پہنچتا ھے، سو جو شخص کسی ایسے شخص کی صحبت میں بیٹھتا ھے چاھے وہ ولی یا شخص اس آدمی کو توجہ دے یا نہیں دے مگر یہ نورتجلی اس شخص تک بھی پہنچتی ھےجو ان کی صحبت میں بیٹھا ھوتا ھے،اس میں کوئی شک نہیں ھے،اور یہ چیز کسی بھی عبادت سے حاصل نہیں ہوتی ،جیسا کہ آپ کو معلوم ھے کہ وہ لوگ جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوتی ھے اور وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو اللہ تعالی کی تجلی اور نور ھوتا ھے اس میں سے ان کو بھی حصہ ملتا ھے ،اور جو علمائے ربانی اور اولیاء اکرام ھیں ان کو وہ تجلی جو رسول اللہ صلی اللہ وسلم پر ھوتی ھے اپنے مقام کے مطابق وہ ان تک بھی پہنچتی ھے ،اور جو برکات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہو رہی ہوتی ہیں ان کو بھی ان برکات سے فائدہ ملتا ھے، اورپھر ان حضرات کی صحبت میں جو شخص بیٹھتا ھے اس تک بھی یہ برکات اور نور پہنچتا ھے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا ھے کہ میری امت کے اولیاء ربانی بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں، اس فرمان میں ضرور کوئی نہ کوئی بات ہوگی، مزید فرمایا کہ دوسری چیز یہ ھے کہ کہ ان ولیوں کے کوئی دو یا تین ایسے الفاظ یا کوئی ایسی نصیحت جو کسی تک پہنچے تو ان سے اس کو اتنا فائدہ ہو سکتا ھے جو ہزاروں مرتبہ کی سو سال کی عبادت سے بھی زیادہ فائدے مند ہو ،حضرت شیخ نے مزید فرمایا کہ کئی دفعہ انھوں نے اپنے مریدوں کو یہ سمجھایا ھے کہ اپنی عبادت سے کوئی بھی شخص کسی خاص مقام تک پہنچتا ھے، آہستہ آہستہ درجہ بدرجہ، حتی کہ وہ آہستہ آہستہ ایک خاص مقام تک اپنی کوشش سے پہنچ جاتا ھے، مگر خدا نہ خواستہ اس کو یہ نہیں معلوم کہ جب وہ اس مقام سے گرتا تو ایک دم گرتا ھے، ایک دم مقام سے تنزلی ہوتی ھے، اور ہم یہ چیز فقط عبادت سے نہیں سمجھ سکتے، اگر یہ چیز کسی عبادت سے سمجھی جا سکتی تو شیطان اس چیز کو سمجھ لیتا، کیونکہ اس نے اللہ کی عبادت ہر مقام ہر جگہ پر کی تھی، مگر جب اللہ تعالی کی طرف سے کوئی امتحان آتا ھے تو کوئی ایسا ہونا چاہیے جو ایسی غلطی سے بچا سکے، مگر جب اللہ تعالی کی طرف سے اس کو امتحان میں ڈالا گیا تو کوئی ایسا ہوتاجو اس کو یہ چیز سمجھاتا کہ وہ یہ غلطی نہ کرے ( صرف اپنی عبادت کو ھی کافی نہ سمجھے)اس کی ساری عبادت صرف ایک غلطی سے ضائع ہوگئی ،اس نے ایک غلطی سے اپنا سب کچھ کھو دیا صرف ایک غلطی سے وہ اتنا نیچے گر گیا۔(اسی لیے یہ بہت ضروری ھے کہ ہم کامل شیخ کی باتوں اور ان کی نصیحت جو ھم تک پہنچے اسے غور سے سنیں اور دھیان دیں کیونکہ ان کے الفاظ میں کوئی ایسی نصیحت ہو سکتی ھےجو کہ کسی بڑی غلطی سے بچا سکتی ھے )

0 Replies to “59 Hazrat Syed MAnzoor Hussain RT explaining the importance of sitting in the company of a ‘Kamil Wali’ (Perfect Saint)”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *